ABOUT US
مرکزی دارالعلومُ القرا و تجوید الاسلامی ایک ممتاز اسلامی تعلیمی ادارہ ہے جو قرآنِ کریم کی حفاظت، اس کے پیغام کی نشر و اشاعت، اور اس کی درست و خوبصورت تلاوت کے فروغ کے لیے روایتی علمی ورثے کو روحانی اخلاص کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ہمارا مقصد ایسے حفاظ، قراء اور علمائے کرام تیار کرنا ہے جو نہ صرف تجوید اور صحیح قراء ت کے اصولوں میں مہارت رکھتے ہوں بلکہ اپنی زندگیوں میں قرآن کے اخلاق کو بھی مجسم کریں۔
ہمارا نظریہ
ہمارے ادارے کی بنیاد اس یقین کے ساتھ رکھی گئی کہ قرآن کو اسی خالص انداز میں پڑھا، سکھایا اور سمجھا جانا چاہیے جس طرح یہ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا۔ وقت کے ساتھ، ہماری درسگاہ ایک مختصر مرکز سے ترقی کرکے تجوید، قراءت، حفظ اور اعلیٰ اسلامی علوم کا جامع ادارہ بن گئی۔ ہمارا وژن یہ ہے کہ ہر وہ طالبِ علم جو ہمارے ادارے سے فارغ ہوتا ہے، ایک پُراعتماد قاری، عالم اور دین کا خادم بن کر نکلے—جو قرآن و سنت کی روشنی میں دوسروں کی رہنمائی کرسکے۔
مشن اور مقاصد
حفظِ قرآن اور یادداشت کا استحکام (Hifz & Muraja’ah)
ہم ایک منظم نظام رکھتے ہیں جس کے تحت طلبہ پورا قرآن حفظ کرتے ہیں اور مسلسل دُہراتے رہتے ہیں تاکہ حفظ مضبوط رہے
تاکہ حفظ مضبوط رہے۔
روایتی اسلامی علوم کی تدریس
تلاوت کے ساتھ ساتھ ہم بنیادی اسلامی علوم مثلاً تفسیر، حدیث، فقہ، علوم القرآن، اور صرف و نحو بھی پڑھاتے ہیں، ایسے نصاب کے مطابق جس نے صدیوں سے علمائے کرام تیار کیے ہیں۔
خدمتِ خلق اور دعوت
فارغ التحصیل طلبہ کو اپنی کمیونٹی کی خدمت کے لیے تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ قاری، مدرس، امام اور مشیر کے طور پر کردار ادا کریں۔ ہم دعوتی سرگرمیوں، قرآنی حلقوں اور عوامی تلاوت کی تربیت کی بھی حمایت کرتے ہیں۔
آسان اور جامع تعلیم
ہم ہر پس منظر کے طلبہ کے لیے اعلیٰ معیار کی قرآنی تعلیم کو قابلِ رسائی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ہر عمر، ہر زبان اور ہر سطح کے طلبہ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
طریقۂ کار (Methodology)
ماہر اساتذہ:
ہمارے اساتذہ روایتی اسلامی تعلیمات میں تربیت یافتہ ہیں اور تجوید و قراء ت کی تدریس میں تجربہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے کئی ممتاز دارالعلوم سے فارغ ہیں یا انہیں قراءت میں اجازہ حاصل ہے۔
درجہ بہ درجہ نصاب:
ابتدائی طلبہ نورانی قائدہ اور درست مخارج سے آغاز کرتے ہیں، پھر بتدریج مکمل ناظرہ، اور اس کے بعد اعلیٰ درجے کے قواعدِ تجوید کی طرف بڑھتے ہیں۔
باقاعدہ جائزہ اور رہنمائی:
ہم باقاعدگی سے جائزے لیتے ہیں—جس میں زبانی امتحانات، تحریری ٹیسٹ اور اساتذہ کی رائے شامل ہوتی ہے—تاکہ طلبہ کی پیشرفت کی نگرانی کی جا سکے اور انہیں بہتر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

